پٹنہ11مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اترپردیش میں بھارتیہ جنتاپارٹی کی بھاری جیت پرجنتادل راشٹروادی نے حیرت کااظہارنہیں کیاہے۔پارٹی کاکہناہے کہ مسلمان کل بھی سیکولرزم کے ساتھ تھے اورآج بھی ہیں۔مگریادوؤں اوردلتوں نے سیکولرزم کاساتھ چھوڑکرفرقہ پرستی کادامن تھام لیاجس کے نتیجہ میں سماج وادی اوربہوجن سماج پارٹی کوکراری شکست کاسامناکرناپڑا۔
جے ڈی آرکے قومی کنوینراورجواں سال مسلم رہنمااشفاق رحمن کاکہناہے کہ مسلمان بھی اس خوش فہمی میں رہناچھوڑدیں کہ وہ بی جے پی کوہرادیں گے۔انہوں نے علماء حضرات سے بھی گزارش کی ہے کہ میڈیایاعوامی سطح پرفرقہ وارانہ خطوط پربیان بازی کرنااب بندکریں۔ان کے بیان سے مسلمان تومتحدہونے سے رہیں جن کوخودانہوں نے مسلک میں بانٹ رکھاہے۔ان کے بیان کے ردعمل میں دوسری قوم کے لوگ ضرورمتحدہوجاتے ہیں جس کانتیجہ آج پورے ملک میں دیکھنے کومل رہاہے۔دوسری قوموں کیلئے نہ مہنگائی مدعاہے اورنہ بیروزگاری۔فرقہ وارانہ خطوط پرپوراسماج بٹتاجارہاہے۔ایسے میں علماء کرام کابیان آگ میں گھی کاکام کرتاہے اورکرے گا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ مسلم عوام بھی برائے مہربانی خودلیڈربننے کے بجائے جہاں بھی مسلم قیادت والی پارٹی ہے،وہاں ان کاساتھ دیں۔بغیریہ سوچے کہ ہارہوگی یاجیت۔جیت کے چکرمیں ہم 70سال سے صرف ہارہی رہے ہیں۔ایک بارمتحد ہو کرہارنے کاتہیہ کرلیں توانشاء اللہ مستقبل قریب میں ہی بڑی جیت ہمیں نصیب ہوسکتی ہے۔خودساختہ سیکولرجماعتوں پر7دہائیوں سے ہم بھروسہ کرتے آرہے ہیں اورہرباراعتماد تارتارہوجاتاہے۔کیوں کہ مسلمان توسیکولرزم کے ساتھ رہتے ہیں مگرخودساختہ سیکولررہنماؤں کی اپنی برادری اس کاساتھ چھوڑکربھاگ جاتی ہے۔لوک سبھاانتخاب میں راشٹریہ جنتادل اورسماج وادی پارٹی کے ساتھ ایساہی ہوا۔مسلمانوں نے دونوں پارٹیوں کوووٹ دیامگران کی برادری کے نوجوان طبقہ کاآئیڈیل نریندرمودی تھے۔70سال کسی پربھروسہ کرنے کیلئے کم نہیں ہوتا،ہربارمسلمان دھوکہ ہی کھاتے رہے ہیں۔اب وقت آگیاہے کہ مسلمان اپنی سیاست کریں اورفرقہ پرستی کے خلاف خودمقابل ہوں۔